UR
علمِ اخلاق
اخلاقِ حمیدہ/ اچھے اخلاق
35 احادیث
اخلاقِ حمیدہ/ اچھے اخلاق
35
اخلاق ذمیمہ/ برے اخلاق
21
35 احادیث
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی اپنے بھائی سے محبت کرتا ہو، تو اسے بتا دے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے“
رواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرى وأحمد
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بوڑھے مسلمان کی توقیر کرنا، حامل قرآن کا احترام کرنا جب کہ وہ قرآن میں غلو کرنے والا اور اس سے رو گردانی کرنے والا نہ ہو اور عادل بادشاہ کی عزت کرنا منجملہ طور پر اللہ کی تعظیم کرنا ہے“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
معاذ ابن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اپنے غصے کو پورا کرنے کی قدرت ہونے کے باجود اسے دبا لیتا ہے، اسے اللہ سبحانہ و تعالی روز قیامت سب مخلوق کے سامنے بلائیں گے اور اختیار دیں گے کہ جنت کی بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے جسے چاہے، چن لے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: میرے جلال کی بنا پر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج میں انھیں اپنے سایے میں رکھوں گا، جب کہ آج کے دن میرے سایے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”اللہ ایسے شخص پر رحم کرے، جو بیچتے، خریدتے اور مطالبہ کرتے وقت فیاضی اور نرمی سے کام لیتا ہے“۔
رواه البخاري
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا۔ وہ اپنے کارندے کو (جب قرض کی وصولی کے لئے بھیجتا تو) کہہ دیتا : اگر تم کسی تنگ دست کے پاس آؤ تو اس سے درگزر کرنا ۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ بھی ہم سے درگزر کرے۔ چنانچہ جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملا تو اللہ نے اسے بخش دیا۔“
متفق عليه
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے کیے، ان میں سے ننانوے حصے اپنے پاس روک لیے اور ایک حصہ زمین میں اتارا۔ اسی ایک حصے کی وجہ سے تمام مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک جانور بھی اپنا کھر اپنے بچے سے ہٹالیتا ہے کہ کہیں اسے تکلیف نہ پہنچے“۔ ایک اور روایت میں ہے: ”اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں۔ اس نے ان میں سے ایک رحمت جنوں، انسانوں، چوپایوں اور کیڑے مکوڑوں کے درمیان اتاری ہے۔ اسی ایک حصۂ رحمت کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر نرمی کرتے اور رحم سے پیش آتے ہیں اور اسی کی وجہ سے جنگلی جانور اپنے بچے پر شفقت کرتا ہے۔ جب کہ اللہ نے ننانوے رحمتیں پیچھے رکھ چھوڑی ہیں جن کے ذريعہ وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پررحم کرے گا“۔ اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں۔ انھی میں سے ایک وہ رحمت ہے جس کی وجہ سے مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے جب کہ ننانوے رحمتیں قیامت کے دن کے لیے (محفوظ) ہیں“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا، سو رحمتیں پیدا کیں۔ ہر رحمت اتنی ہے جتنی آسمان و زمین کے مابین مسافت ہے۔ پھر ان میں سے ایک رحمت کو اس نے زمین میں رکھ دیا، اسی کی وجہ سے ماں اپنے بچے پر اور جنگلی جانور اور پرندے ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کو اس (دنیوی) رحمت کے ساتھ ملا کر مکمل فرمائے گا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ
ابو ذر جندب بن جنادۃ اور ابو عبد الرحمن معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: "تم جہاں کہیں بھی رہو، اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو۔ اور (اگر کوئی گناہ ہو جائے تو) اس گناہ کے بعد نیکی کر لیا کرو، یہ گناہ کو مٹا دے گی اور لوگوں سے حُسنِ اخلاق سے پیش آیا کرو۔"
رواه الترمذي
نواس بن سمعان انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ’’نیکی تو اچھا اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تجھے یہ ناگوار ہو کہ لوگ اس سے باخبر ہوں‘‘۔
رواه مسلم
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے : ”ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، خرید و فروخت کی بولی میں قیمت بڑھا کر ایک دوسرے کو دھوکا نہ دو، آپس میں بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو اور تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے۔ اے اللہ کے بندو! تم بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ وہ اس پر ظلم نہ کرے، اس کو بے سہارا نہ چھوڑے اور اس کو حقیر نہ سمجھے۔ تقویٰ یہاں ہے۔" اور آپ ﷺ نے یہ الفاظ اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمائے۔ "کسی بھی آدمی کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ ۔ہر مسلمان کا خون، اس کا مال اور اس کی عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔“
رواه مسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : ایک شخص نے اللہ کے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی نصیحت کریں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”غصہ مت کیا کرو“۔ اس نے یہ سوال بار بار دہرایا اور آپ ﷺ ہر بار یہی فرماتے رہے کہ غصہ مت کیا کرو۔
رواه البخاري
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاسکتا“۔
متفق علیہ
جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جو شخص نرمی سے محروم کر دیا گیا وہ ہر قسم کی بھلائی سے محروم کردیا گیا۔"
رواه مسلم
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا،آپ ﷺ کے جسم پر موٹے کنارے والی نجرانی چادرتھی۔ اتنے میں ایک دیہاتی پیچھے سے آیا اور اس نے آپ ﷺ کی چادر کھینچی۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کے شانے کو دیکھا کہ اس شخص کے زورسے کھینچنے کی وجہ سے اس پر چادر کے کناروں سے نشان پڑ گئے تھے۔اس نے کہا کہ: اے محمد! اللہ کا جو مال تیرے پاس ہے اس میں سے مجھے دینے کا حکم کرو۔ اس پر آپ ﷺ نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا دیے، پھر آپ ﷺ نے اسے کچھ مال دینے کا حکم دیا۔
متفق علیہ
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے فرمایا : ”کسی بھی اچھے کام کو ہر گز حقیر مت جانو، خواہ تمہارا اپنے بھائی کے ساتھ خوش باش چہرے کے ساتھ ملنا ہی کیوں نہ ہو“۔
رواه مسلم
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”طاقتور وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دیتا ہو، بلکہ طاقتور وہ ہے، جو غصّہ کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے“۔
متفق عليه
ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا اور کہنے لگا : میری سواری کا جانور ہلاک ہو چکا ہے۔ لہذا مجھے سواری کے لیے ایک جانور عطا کیجیے۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "میرے پاس جانور نہيں ہے۔" اتنے میں ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول! میں اسے ایک شخص کے بارے میں بتا سکتا ہوں، جو اسے سواری کے لیے جانور دے دے۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جس نے نیکی کی طرف رہنمائی کی تو اس کو اس نیکی کا کام کرنے والے کے برابر اجر ملے گا۔"
رواه مسلم
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔"
متفق عليه
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اس پر اللہ بھی رحم نہیں کرتا“۔
متفق عليه
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ کون سی چیز لوگوں کو سب سے زیادہ جنت میں داخل کرے گی، تو آپ نے جواب دیا : "اللہ کا ڈر اور اچھے اخلاق۔" اسی طرح آپ سے پوچھا گیا کہ کون سی چیز لوگوں کو سب سے زیادہ جہنم میں داخل کرے گی، تو آپ نے جواب دیا : "منہ اور شرم گاہ۔"
رواه الترمذي وابن ماجه وأحمد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن اپنے مومن بھائی کا آئینہ ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”الله تعالی نے مجھ پر وحی نازل کی ہے کہ تواضع اختیار کرو یہاں تک کہ تم میں سے کوئی کسی پر ظلم نہ کرے اور نہ ہی کوئی کسی پر فخر کرے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "تم سچ بولنے کو لازم پکڑو۔ بلاشبہ سچ نیکو کاری کا راستہ بتلاتا ہے اور نیکو کاری یقینًا جنت میں پہنچا دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کا ہی ارادہ رکھتا ہے، تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ عز و جل کے یہاں صدیق ( بہت سچا) لکھ دیا جاتا ہے۔ اور جھوٹ سے مکمل پرپیز کرو، کیوں کہ جھوٹ گناہ کا راستہ بتلاتا ہے اور گناہ یقینًا جہنم میں پہنچا دیتا ہے۔ انسان ہمیشہ جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ بولنے کا ہی ارادہ رکھتا ہے، تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ عز و جل کے یہاں کذاب (بہت جھوٹا ) لکھ دیا جاتا ہے۔"
متفق عليه
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جو شخص اپنے بھائی کی عزت وناموس کا (اس کی غیر موجودگی میں) دفاع کرے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے کو جہنم کی آگ سے دور کردے گا“۔
رواه الترمذي وأحمد
صفحہ 1 از 2
اگلا صفحہ