حدیث برائے عالم
پورے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر ٹیپ کریں
فضائل و آداب

ابو ذر جندب بن جنادۃ اور ابو عبد الرحمن معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

51 زبانوں میں دستیاب
«ابو ذر جندب بن جنادۃ اور ابو عبد الرحمن معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: "تم جہاں کہیں بھی رہو، اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو۔ اور (اگر کوئی گناہ ہو جائے تو) اس گناہ کے بعد نیکی کر لیا کرو، یہ گناہ کو مٹا دے گی اور لوگوں سے حُسنِ اخلاق سے پیش آیا کرو۔"»

ترجمۂ مفہوم ·

حدیث کی شرح

مفہوم آسان الفاظ میں

اس حدیث میں اللہ کے نبی ﷺ تین باتوں کا حکم دے رہے ہيں: پہلی بات : تقوی اختیار کیا جائے۔ تقوی اختیار کرنے کا مطلب ہے، واجبات ادا کرنا اور حرام چیزوں کو ترک کرنا۔ خواہ زمان ومکان اور حالات جو بھی ہوں، سری طور پر بھی اور علانیہ طور پر بھی، امن و سکون کے وقت بھی اور آزمائش کی گھڑی میں بھی۔ دوسری بات : اگر کوئی برا کام ہو جائے، تو اس کے بعد کوئی اچھا کام کرو، جیسے نماز پڑھنا، صدقہ کرنا، بھلائی کرنا، صلہ رحمی کرنا اور توبہ کرنا وغیرہ۔ یہ چیزیں برائی اور گناہ کو ختم کر دیتی ہيں۔ تیسری بات : لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔ جیسے مسکرا کر ملنا، نرم برتاؤ کرنا، بھلائی کرنا اور تکلیف نہ دینا وغیرہ۔

ماخذ
رواه الترمذي
تصویر ڈاؤن لوڈ کریں

اصل معیار میں محفوظ ہوگی