UR
شرعی آداب
کھانے پینے کے آداب
11 احادیث
عالم اور متعلم کے آداب
6
قرآن کریم کی تلاوت کے آداب
1
سلام کرنے اور اجازت چاہنے کے آداب
9
گفتگو اور خاموشی کے آداب
12
کھانے پینے کے آداب
11
سفر کے آداب اور احکام
4
سونے اور بیدار ہونے کے آداب
3
خواب کے آداب
2
ملاقات کرنے اور اجازت چاہنے کے آداب
3
چھینک اور جمائی لینے کے آداب
3
بیمار پرسی کے آداب
5
لباس کے آداب
8
11 احادیث
وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہم کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے۔؟ آپ ﷺ نے فرمایا: شاید تم الگ الگ کھاتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:”اپنا کھانا اکٹھے ہو کر کھایا کرو اوراللہ کا نام لیا کرو، اس میں تمہارے لیے برکت ڈال دی جائے گی“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا، اگر آپ ﷺ کو وہ اچھا لگتا تو کھا لیتے اور اگر ناپسند ہوتا تو چھوڑ دیتے تھے۔
متفق علیہ
انس ابن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کھانا کھا لیتے تو آپ ﷺ (آخر میں) اپنی تینوں انگلیوں کو چاٹ لیا کرتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو وہ اس سے گندگی کو جھاڑ کر اسے کھا لے اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے“۔ اور آپ ﷺ نے حکم دیا کہ (کھانے کے) برتن کو اچھی طرح صاف کر دیا جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نہیں جانتے کہ تمہارے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے“۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: ”شیطان تم میں سے ہر ایک کے ہر کام کے وقت موجود ہوتا ہے حتی کہ کھانے کے وقت بھی، لہذا اگر تم میں سے کسی سے اُس (کے کھانے ) کا لقمہ گر جائے تو (وہ اُس لقمے کو اٹھا لے اور) اس لقمے پرجو گندگی لگ گئی ہو اُسے صاف کر لے اور پھر اُسے کھا لے اور اُس لقمے کو شیطان کےلیے نہ چھوڑے اور جب وہ کھانے سے فارغ ہو تو اپنی انگلیاں چاٹ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اُس کے کھانے کے کس سے حصے میں برکت ہے“۔
اس حديث کی دونوں روایتوں کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”اللہ تعالی بندے کی اس بات سے خوش ہوتا ہے کہ وہ کھانا کھائے اور اس پر اللہ کی تعریف کرے یا پانی پیے اور اس پر اللہ کی تعریف کرے“۔
رواه مسلم
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو دعوتِ ولیمہ پر بلایا جائے، تو وہ اس میں ضرور شریک ہو“ـ
متفق علیہ
ابوجُحَیْفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ ﷺ نے ایک صحابی سے جو آپ کے پاس موجود تھے فرمایا کہ "میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا"۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”برکت، کھانے کے بیچ میں نازل ہوتی ہے، اس لیے تم لوگ اس کے کنارے سے کھاؤ، بیچ سے مت کھاؤ“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے، تو اپنے دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب تم میں سے کوئی شخص کوئی چیز پیے تو اپنے دائیں ہاتھ سے پیے۔ کیوں کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے۔"
رواه مسلم
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔
عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم شرب لبنًا فمضمض، وقال: «إن له دسمًا».
متفق عليه
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ، فَقَرَّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا وَمَرَقًا، فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ القَصْعَةِ، قَالَ: فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مِنْ يَوْمِئِذٍ.
متفق عليه