UR
زکوۃ
صدقہ فطر
2 احادیث
زکوۃ کی فرضیت اور اسے نہ دینے والے کا حکم
1
صدقہ فطر
2
نفلی صدقہ
10
2 احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول ﷺ نے صدقۂ فطر مسلمان غلام اور آزاد، مرد اور عورت، چھوٹے اور بڑے (سب پر) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض قرار دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ اسے نماز عید کے لیے لوگوں کے نکلنے سے پہلے پہلے ادا کر دیا جائے۔
متفق عليه
📗ترجمہ : عبد اللہ ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر کو فرض قرار دیا تاکہ روزے کے لیے لغو اور بیہودہ اقوال و افعال سے پاکیزگی ہو جائے اور مسکینوں کو طعام حاصل ہو ۔ چنانچہ جس نے اسے نماز ( عید ) سے پہلے پہلے ادا کر دیا تو یہ ایسی زکوٰۃ ہے جو قبول کر لی گئی اور جس نے اسے نماز کے بعد ادا کیا تو یہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے ۔ 📚أخرجه أبو داود في "السنن"، كتاب الزكاة باب زكاة الفطر (2/ 179) رقم (1609).