UR
زکوۃ
نفلی صدقہ
10 احادیث
زکوۃ کی فرضیت اور اسے نہ دینے والے کا حکم
1
صدقہ فطر
2
نفلی صدقہ
10
10 احادیث
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ جب بندے صبح کو اٹھتے ہوں تو دو فرشتے آسمان سے نہ اترتے ہوں۔ ایک فرشتہ کہتا ہے کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ دے اور دوسرا کہتا ہے کہ اے اللہ! روک کر رکھنے والے کے مال کو ہلاک کردے"۔
متفق عليه
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں کون ہے وہ شخص کہ جسے اپنے وارث کا مال خود اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایسا تو کوئی بھی نہیں، ہر کسی کو اپنا ہی مال زیادہ محبوب ہے- آپ ﷺ نے فرمایا: آدمی کا مال وہی ہے جو اس نے آگے بھیجا (جو اللہ کی راہ میں خرچ کیا) اور جتنا مال وہ چھوڑ گیا وہ اس کے وارثوں کا ہے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
ابن مسعود رضي الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”حسد صرف دو صورتوں میں جائز ہے۔ ایک تو یہ کہ کسی شخص کو اللہ نے دولت دی ہو اور وہ اسے اس کو راہ حق میں خرچ کرنے پر لگا دیا ہو اور دوسرا یہ کہ کسی شخص کو اللہ نے حکمت ( کی دولت) سے نوازا ہو اور وہ اس کے ساتھ فیصلہ کرتا ہو اور ( لوگوں کو) اس حکمت کی تعلیم دیتا ہو“۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حسد صرف دو صورتوں میں جائز ہے؛ ایک تو یہ کہ کسی آدمی کو اللہ تعالی قرآن سے نوازے اور وہ دن رات اس (کی تلاوت اور تعلیم و تدریس) میں لگا رہے اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ مال عطا کرے اور وہ دن رات اسے (وجوہ خیر میں) خرچ کرتا رہے“۔
اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔
عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”کھاؤ، صدقہ کرو اور پہنو، لیکن اسراف اور تکبر سے بچو“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - امام بخاری نے اسے صیغۂ جزم کے ساتھ تعلیقاً روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”صدقہ مال کو گھٹاتا نہيں ہے، بندہ کے عفو و درگزر سے کام لینے سے اللہ اس کی عزت کو مزید بڑھاتا ہے اور جو آدمی اللہ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ تعالی اسے بلندیوں سے نوازتا ہے“۔
رواه مسلم
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالی نے فرمایا: ”اے ابن آدم ! خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا“۔
متفق عليه
عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه مرفوعاً: «على كل مسلم صدقة» قال: أرأيت إن لم يجد؟ قال: «يعمل بيديه فينفع نفسه ويتصدق» قال: أرأيت إن لم يستطع؟ قال: «يُعِينُ ذا الحاجة المَلْهُوفَ» قال: أرأيت إن لم يستطع، قال: «يأمر بالمعروف أو الخير». قال: أرأيت إن لم يفعل؟ قال: «يُمسك عن الشر، فإنها صدقة».
متفق عليه
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’عنقریب تم میں سے ہر شخص سے اس کا رب اس حال میں کلام فرمائے گا کہ آدمی اور اس کے رب کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا۔ آدمی اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو اسے آگے بھیجے ہوئے عمل ہی نظر آئیں گے، اپنی بائیں جانب دیکھے گا تو ادھر بھی اپنے آگے بھیجے ہوئے عمل ہی دیکھے گا اور اپنے سامنے دیکھے گا تو سامنے اسے جہنم کی آگ کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا۔ چنانچہ تم آگ سے بچو، اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا (صدقے کرنے) کے ذریعے ہی سے ہو۔‘‘
متفق عليه
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جو بے نیازی سے ہو۔ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔ اور تم میں سے ہر کسی کو چاہیے کہ وہ ان لوگوں سے صدقہ دینے کی شروعات کرے جو اس کے زیرِ پرورش ہوں،، (کہیں ایسا نہ ہو کہ) اس کی بیوی اس سے کہنے لگے تم میرے اوپر خرچ کرو اور ام ولد کہے کہ مجھے کس کے انحصار پرچھوڑ رہے ہواور اس کا غلام کہے مجھے کھلاؤ اور مجھ سے کام لو۔
اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا وَكَافِلُ اليَتِيمِ فِي الجَنَّةِ هَكَذَا» وَقَالَ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالوُسْطَى.
رواه البخاري