حدیث برائے عالم
اخلاقی صفات

آپ ﷺ کی گرم گستری

2 احادیث

2 احادیث

ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے مانگا تو آپ نے انہیں دیا۔ انہوں نے پھر مانگا تو آپ ﷺ نے انہیں پھر دیا۔ یہاں تک کہ جو مال آپ کے پاس تھا وہ ختم ہوگیا۔ جب آپ ﷺ اپنے پاس موجود سب کچھ دے چکے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اگر میرے پاس مال ہو تو میں اسے تم سے ہرگز بچا کر نہیں رکھوں گا۔ (تاہم یاد رکھو کہ) جو شخص سوال کرنے سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اسے سوال کرنے سے محفوظ رکھتا ہے اور جو شخص بے نیاز ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بے نیاز کر دیتا ہے اور جو شخص صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے صبر عطا کرتا ہے۔ اور کسی کو بھی صبر سے زیادہ بہتر اور اس سے زیادہ بے پایاں بھلائی نہیں ملی۔متفق علیہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی انسان تھے اور آپ سب سے زیادہ سخی رمضان میں ہوا کرتے تھے، جب جبریل عليہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے۔ جبریل عليہ السلام آپ سے رمضان کی ہر رات میں ملتے تھے اور قرآن کا دور کراتے تھے۔ لہذا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خير کے کاموں میں تيز ہوا سے بھی زیادہ تیز رفتار ہوا کرتے تھے۔متفق عليه