حدیث برائے عالم
پورے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر ٹیپ کریں
فقہ و اصولِ فقہ

عَن أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

42 زبانوں میں دستیاب
«انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ نماز میں اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے یہ بات بڑی سخت لہجے میں کی، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا: لوگ اس سے باز آجائیں ورنہ ان کی آنکھیں اچک لی جائیں گی۔»

ترجمۂ مفہوم ·

حدیث کی شرح

مفہوم آسان الفاظ میں

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز ی کے لیے ضروری ہے کہ حالت نماز میں وہ پر سکون رہے اور خشوع و خضوع اختیار کرے۔ خشوع قلب کی علامت اعضا کا پرسکون ہونا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ نبی کریمﷺ نے اپنی امت کو نماز میں فضولیات اور آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے سے ڈرایا ہے۔ کیوں کہ یہ نماز کے آداب اور رتبے کی منافی چیزيں ہیں؛ اس لیے کہ نمازی قبلہ رو، اپنے کے سامنے کھڑے ہوکر اس سے محو گفتگو ہوتاہے۔ چنانچہ اس موقع پر آسمان کی طرف نگاہ اٹھانا اللہ کے ساتھ بے ادبی کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے انذار اور وعید میں مبالغہ سے کام لیتے ہوئے ان لوگوں کو تنبیہ کی ہے، جو دوران نماز اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں کہ اس سے باز آ جائیں، ورنہ ان کی بینائی چھین لی جائے گی اور یہ اتنی تیزی سے ہو گا کہ انھیں پتہ بھی نہیں چلے گا اور نعمت بصارت سے محروم ہو جائیں گے۔ ان کے ساتھ یہ سب کچھ نماز کی توہین کی سزا کے طور پر ہو گا۔

ماخذ
متفق علیہ
تصویر ڈاؤن لوڈ کریں

اصل معیار میں محفوظ ہوگی