حدیث برائے عالم

تمام احادیث

کارڈز کا مکمل مجموعہ

655 احادیث

ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دن میں سو بار ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ“ پڑھا، اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔“متفق عليه
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا ہے : ”جس کے ساتھ اللہ خیر کا ارادہ کرتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ میں تو بس تقسیم کرنے والا ہوں، دینے والا اللہ ہے۔ یہ امت اللہ کے دین پو قائم رہے گی، اس کی مخالفت کرنے والے اسے نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ اللہ کا امر آجائے“۔متفق عليه
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ تشریف لائے، تو لوگ آپ کی جانب دوڑ پڑے۔ ہر طرف شور تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لا چکے ہيں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لا چکے ہيں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لا چکے ہيں۔ یہ جملہ انھوں نے تین بار دوہرایا۔ دیکھنے کے لیے میں بھی لوگوں کی بھیڑ میں داخل ہوا۔ جب دھیان سے آپ کا چہرہ دیکھا تو میرے لیے یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہيں ہو سکتا۔ اس دوران میں نے آپ کو جو پہلی بات کہتے ہوئے سنی، وہ یہ تھی : "لوگو! سلام عام کرو، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو اور رات میں جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو نماز پڑھو، سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤگے۔"رواه الترمذي وابن ماجه وأحمد
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے ثابت رحمہ اللہ سے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کا بتلایا ہوا دم نہ کروں؟ انہوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں۔ انس رضی اللہ عنہ نے یہ دعا پڑھی: ”اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، مُذْهِبَ البَأسِ، اشْفِ أنْتَ الشَّافِي، لاَ شَافِيَ إِلاَّ أنْتَ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقماً“ اے اللہ، اے لوگوں کے پروردگار، اے پریشانی کو دورکرنے والے! تو شفا عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے، ایسی شفا جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے۔اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا : ”بے شک اللہ تعالی اس بندے سے محبت رکھتا ہے، جو متقی (پرہیزگار)، مخلوق سے بے نیاز اور پوشیدہ حال ہو“۔رواه مسلم
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو واپس آنے تک وہ جنت کے تازہ پھلوں کے چننے میں مصروف رہتا ہے“۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! ”خُرْفَةُ الجنَّةِ“ سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے تازہ پھل“۔اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
انس ابن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کھانا کھا لیتے تو آپ ﷺ (آخر میں) اپنی تینوں انگلیوں کو چاٹ لیا کرتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو وہ اس سے گندگی کو جھاڑ کر اسے کھا لے اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے“۔ اور آپ ﷺ نے حکم دیا کہ (کھانے کے) برتن کو اچھی طرح صاف کر دیا جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نہیں جانتے کہ تمہارے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے“۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: ”شیطان تم میں سے ہر ایک کے ہر کام کے وقت موجود ہوتا ہے حتی کہ کھانے کے وقت بھی، لہذا اگر تم میں سے کسی سے اُس (کے کھانے ) کا لقمہ گر جائے تو (وہ اُس لقمے کو اٹھا لے اور) اس لقمے پرجو گندگی لگ گئی ہو اُسے صاف کر لے اور پھر اُسے کھا لے اور اُس لقمے کو شیطان کےلیے نہ چھوڑے اور جب وہ کھانے سے فارغ ہو تو اپنی انگلیاں چاٹ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اُس کے کھانے کے کس سے حصے میں برکت ہے“۔اس حديث کی دونوں روایتوں کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ آپ نے ایک رات -یعنی چودھویں کی رات- چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا : ”یقینا تم لوگ اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے، جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔ اسے دیکھنے میں تمھیں کوئی دقت نہیں ہوگی۔ لہٰذا اگر تم سے ہو سکے کہ سورج نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں پر کسی چیز کو حاوی نہ ہونے دو، تو ایسا ضرور کرو۔" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی : {وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ} (اور سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر)"۔متفق عليه
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حافظ قرآن کی مثال رسی سے بندھے ہوئے اونٹ جیسی ہے، اگر اس نے ان کی نگہداشت کی، تو وہ انھیں قابو میں رکھے گا اور اگر انھیں چھوڑ دے گا، تو وہ چلے جائیں گے“۔متفق علیہ
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کا گزر چند بچوں کے پاس سے ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں سلام کیا اور فرمایا: نبی ﷺ ایسے ہی کیا کرتے تھے۔متفق علیہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے کوئی خوشبو پیش کی جائے تو وہ اسے واپس نہ کرے، اس لیے کہ وہ ہلکی پھلکی چیز ہے اور اس کی مہک خوشگوار ہوتی ہے“۔اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : "ظلم سے بچو، کیوں کہ ظلم قیامت کے دن تاریکیاں لائے گا۔ بخل و حرص سے بچو، اس لیے کہ اسی بخل و حرص نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کردیا۔ اسی بخل و حرص نے انھیں اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپس میں خون خرابہ کریں اور حرام کردہ چیزوں کو حلال کرلیں۔رواه مسلم
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "سب سے کامل ایمان والا مؤمن وہ ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور تمھارے اندر سب سے اچھا انسان وہ ہے، جو اپنی عورتوں کے حق میں سب سے اچھا ہو۔"رواه أبو داود والترمذي وأحمد
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا : "دنیا کچھ وقت تک کے لیے لطف اندوز ہونے کا سامان ہے اور دنیا کا سب سے بہتر سامان نیک عورت ہے۔"رواه مسلم
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا : ”نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے، اسے مزیّن کردیتی ہے اور جس چیز سے بھی نکال لی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے“۔رواه مسلم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”اللہ تعالی بندے کی اس بات سے خوش ہوتا ہے کہ وہ کھانا کھائے اور اس پر اللہ کی تعریف کرے یا پانی پیے اور اس پر اللہ کی تعریف کرے“۔رواه مسلم
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مومن اپنے حُسنِ اخلاق کے ذریعے روزے دار اور شب بیدار عبادت گزار کا درجہ حاصل کر لیتا ہے“۔رواه أبو داود وأحمد
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نہ تو فحش گو تھے اور نہ بہ تکلف بد زبانی کرنے والے تھے۔ آپﷺ فرمایا کرتے تھے : ”تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں“۔متفق عليه
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالی نے فرمایا: ”اے ابن آدم ! خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا“۔متفق عليه
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ اسلام کا کون سا عمل سب سے اچھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "یہ کہ تم کھانا کھلاؤ اور جانے پہچانے اور ان جانے سب کو سلام کرو۔"متفق عليه
ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ویسے تو اللہ تعالی ظالم کو مہلت دیتا ہے، لیکن جب اسے پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔" پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : {وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَىٰ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ} (تیرے پروردگار کی پکڑ کا یہی طریقہ ہے، جب کہ وه بستیوں کے رہنے والے ﻇالموں کو پکڑتا ہے۔ بےشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی اور نہایت سخت ہے)۔ [سورہ ہود : 102]متفق عليه
عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”وہ شخص کامیاب ہو گیا جو اسلام لایا، اسے بقدر کفایت رزق مل گیا اور اللہ نے اسے جو کچھ دیا اس پر اسے قناعت دے دی“۔ ابو محمد فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جسے اسلام کی طرف ہدایت دی گئی اور جس کی روزی بقدر کفایت تھی اور وہ اس پر قانع ہو گیا“۔اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه مرفوعاً: «على كل مسلم صدقة» قال: أرأيت إن لم يجد؟ قال: «يعمل بيديه فينفع نفسه ويتصدق» قال: أرأيت إن لم يستطع؟ قال: «يُعِينُ ذا الحاجة المَلْهُوفَ» قال: أرأيت إن لم يستطع، قال: «يأمر بالمعروف أو الخير». قال: أرأيت إن لم يفعل؟ قال: «يُمسك عن الشر، فإنها صدقة».متفق عليه
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”ميں نے اپنے بعد كوئی ایسا فتنہ نہیں چھوڑا، جو مردوں کے حق میں عورتوں سے زیادہ ضرر رساں ہو“۔متفق عليه