UR
تمام احادیث
کارڈز کا مکمل مجموعہ
قرآن کریم اور اس کے علوم
26
حدیث و علومِ حدیث
3
عقیدہ
135
فقہ و اصولِ فقہ
288
فضائل و آداب
288
دعوت و احتساب
15
سیرت و تاریخ
38
655 احادیث
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک رات قرآن کی ایک آیت سے قیام کیا۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم چالیس سال کی عمر میں نبی بنائے گئے۔ پھر مکہ میں تیرہ سال رہے اور اس مدت میں آپ پر وحی آتی رہی۔ پھر ہجرت کا حکم ہوا اور ہجرت کی سر زمین میں دس سال رہے اور تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔
متفق علیہ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے صحابہ کو گالی نہ دو۔ اگر تم میں سے کوئی احد کے برابر بھی سونا خرچ کر دے، تو بھی ان کے ایک مد یا آدھا مد کو نہیں پہنچے گا۔"
متفق عليه
مِسوَر بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فاطمہ (رضی اللہ عنہا) میرے جسم کا ٹکڑا ہے، جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔
متفق علیہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے حسن و حسین (رضی اللہ عنہما) سے محبت کی اُس نےمجھ سے محبت کی اور جس نے ان کو ناراض کیا گویا اس نے مجھے ناراض کیا“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں بہترین شخص وہ ہے جو میرے بعد میرے اہل خانہ کے ساتھ اچھاسلوک کرنے والا ہو“۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف نے اپنا ایک باغ چار لاکھ میں فروخت کیا اور اس کی رقم نبی کریم ﷺ کی بیویوں میں تقسیم کر دی۔
اسے ابنِ ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔
اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی پر رشک نہیں کیا سوائے خدیجہ رضی اللہ عنہا کے حالانکہ میں نے ان کو نہیں پایا۔ اُمّ المؤمنین فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بکری ذبح کرتے تھے تو آپ ﷺ فرماتے: ”اس کا گوشت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو بھیج دو“۔ اُم المؤمنین فرماتی ہیں کہ میں ایک دن غصہ میں آگئی اور میں نے کہا خدیجہ خدیجہ ہی ہو رہی ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے دل میں ان کی محبت ڈالی جا چکی ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں کسی اور سے شادی نہیں کی حتی کہ آپ رضی اللہ عنہا فوت ہو گئیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام ریشم کے سبز ٹکڑے میں ان (عائشہ رضی اللہ عنہا) کی تصویر لے کر نبیﷺ کی خدمت میں آئے اور فرمایا: یہ دنیا اور آخرت میں آپ کی بیوی ہیں۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مردوں میں سے بہت سے لوگ مرتبۂ کمال تک پہنچے، لیکن عورتوں میں سے صرف فرعون کی بیوی آسیہ اور مریم بنت عمران ہی مرتبۂ کمال تک پہنچیں اور عائشہ کو عورتوں پر وہی فضیلت حاصل ہے، جو فضیلت ثرید کو سارے کھانوں پر حاصل ہے"۔
متفق علیہ
عبدالرحمن بن ابی عُمیرہ جو کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے تھے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ”اے اللہ ! تو ان کو ہدایت دے، انھیں ہدایت یافتہ بنا اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
ابو عزۃ الھذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی موت کے لیے کسی زمین کا فیصلہ کر دیتا ہے تو وہاں اس کی کوئی حاجت پیدا کر دیتا ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے ابو داؤد الطیالسی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص مرجاتا ہے تو اس کا ٹھکانا اسے صبح وشام دکھایا جاتا ہے۔ اگر وہ جنتی ہے تو جنت والوں میں اور اگر دوزخی ہے تو دوزخ والوں میں۔ پھر کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تجھ کو (دوبارہ)اٹھائے گا“۔
متفق علیہ
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ مدینے کے ایک بلند مقام پر چڑھے۔ پھر فرمایا: کیا تم لو گ بھی دیکھ رہے ہو، جو میں دیکھ رہا ہوں؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں! آپ نے فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں کہ (عن قریب ) تمھارے گھروں میں فتنے اس طرح برس رہے ہوں گے، جیسے بارش برستی ہے۔
متفق علیہ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھ لی ہیں؟ تین یا چار ؟ تو وہ شک کو چھوڑ دے اور جتنی رکعتوں پر اسے یقین ہو ان پر اعتماد کرے اور پھر سلام سے پہلے دو سجدے کرلے۔ اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھ لی ہیں تو یہ سجدے اس کی نماز کو جفت (چھ رکعتیں) کردیں گے اور اگر پوری چار رکعات پڑھی ہوں، تو یہ سجدے شیطان کی ذلت و رسوائی کا باعث ہوں گے“۔
رواه مسلم
ابو رافع بیان کرتے ہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے سورہ ﴿إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ﴾ پڑھی اور اس میں سجدہ کیا، پھر جب سلام پھیرا تو انھیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سورت میں سجدہ کیا تھا۔
متفق علیہ
ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کو جب کوئی باعثِ مسرت چیز پیش آتی ہے یا پھر کوئی خوش خبری سنائی جاتی تو آپ ﷺ اللہ کے شکر میں سجدہ ریز ہو جاتے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
اُمّ المؤمنىن حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ فجر ہونے کے بعد دو ہلکی رکعتیں (سنتِ فجر) پڑھتے. ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ”قَبْلَ أنْ تُقَامَ الصَّلَاةُ“ یعنی نماز کا اقامت ہونے سے پہلے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے کی چار رکعات اور فجر سے پہلے کی دو رکعات نہیں چھوڑتے تھے"۔
رواه البخاري
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیوی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: "جس نے ظہر سے پہلے اور ظہر کے بعد چار چار رکعتیں پڑھنے کی پابندی کی، اللہ اس پر جہنم کی آگ حرام کر دے گا"۔
رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمد
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”الله اس شخص پر رحم فرمائے جس نے عصر سے پہلے چار رکعت نماز پڑھی“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو۔ پھر فرمایا: جس کا جی چاہےمغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھے۔ یہ اس اندیشے سے فرمایا کہ لوگ اس کو سنت (لازمہ) نہ بنالیں۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب مؤذن فجر کی پہلی اذان دے کر چپ ہوجاتا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوتے اور فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں (سنت فجر) ہلکی پھلکی ادا کرتے صبح صادق روشن ہو جانے کے بعد، پھر داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے۔ یہاں تک کہ مؤذن تکبیر کہنے کی اطلاع دینے کے لیے آپﷺ کے پاس آتا۔
متفق علیہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: ایک آدمی نے نبی ﷺ سے اس وقت سوال کیا جب آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے، کہ رات کی نماز کے بارے میں آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’دو دو رکعت کر کے (پڑھو)، اور جب صبح ہونے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو، وہ تمہاری ساری نماز کو طاق کر دے گی۔‘‘ اور آپ ﷺ یہ بھی فرماتے تھے: ’’اپنی آخری نماز وتر کو بناؤ‘‘، چناں چہ نبی ﷺ نے اسی کا حکم دیا۔
متفق عليه
پچھلا صفحہ
صفحہ 22 از 28
اگلا صفحہ