حدیث برائے عالم
فقہ و اصولِ فقہ

فقہِ عبادات (عبادات سے متعلق شرعی مسائل)

231 احادیث

231 احادیث

مَعدان بن ابی طلحہ یَعمَری سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا کام بتائيں، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھ کو جنت میں داخل کر دے۔ یا پھر یہ کہا کہ مجھے کوئی ایسا کام بتائيں، جو اللہ کو سب سے محبوب ہو۔ یہ سن کر ثوبان رضی اللہ عنہ چپ ہو رہے۔ میں نے ان سے دوبارہ پوچھا، تو پھر چپ رہے۔ تیسری بار پوچھا تو فرمایا : میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : ”تو کثرت سے سجدہ کیا کر۔ اس لیے کہ ہر سجدے کے بدلے میں اللہ تعالیٰ تیرا ایک درجہ بلند کرے گا اور تیرا ایک گناہ معاف کرے گا۔“ مَعدان کہتے ہیں : پھر میں نے ابو دردا سے ملاقات کی اور ان سے بھی یہی سوال کیا، تو انھوں نے بھی اسی طرح کی بات کہی، جو ثوبان نے کہی تھی۔رواه مسلم
ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آدمی رات کو نماز کے لیے کھڑا ہو اور اس کی زبان قرآن مجید پڑھنے میں اٹک رہی ہو اور وہ نہ سمجھ رہا ہو کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ لیٹ جائے“۔اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے۔ روزِ قیامت اس سے صرف روزے دار داخل ہوں گے۔ ان کے سوا اس سے کوئی اور داخل نہیں ہو گا۔ کہا جائے گا: روزہے دار کہاں ہیں؟ تو وہ کھڑے ہوں گے (اور اس سے داخل ہو جائیں گے)، ان کے علاوہ اس سے کوئی اور داخل نہیں ہوگا۔ جب وہ داخل ہو جائیں گے تو اسے بند کر دیا جائے گا۔ چنانچہ کوئی اور اس سے داخل نہیں ہوگا۔‘‘متفق علیہ
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری دس دنوں میں عبادت میں جنتی محنت کرتے تھے، اتنی دوسرے دنوں میں نہيں کرتے تھے۔رواه مسلم
ابن مسعود رضي الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”حسد صرف دو صورتوں میں جائز ہے۔ ایک تو یہ کہ کسی شخص کو اللہ نے دولت دی ہو اور وہ اسے اس کو راہ حق میں خرچ کرنے پر لگا دیا ہو اور دوسرا یہ کہ کسی شخص کو اللہ نے حکمت ( کی دولت) سے نوازا ہو اور وہ اس کے ساتھ فیصلہ کرتا ہو اور ( لوگوں کو) اس حکمت کی تعلیم دیتا ہو“۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حسد صرف دو صورتوں میں جائز ہے؛ ایک تو یہ کہ کسی آدمی کو اللہ تعالی قرآن سے نوازے اور وہ دن رات اس (کی تلاوت اور تعلیم و تدریس) میں لگا رہے اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ مال عطا کرے اور وہ دن رات اسے (وجوہ خیر میں) خرچ کرتا رہے“۔اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔
ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ الله کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے خوف سے رویا ہو وہ جہنم میں داخل نہ ہوگا یہاں تک کہ دودھ تھنوں میں واپس چلا جائے۔ اور (کسی آدمی پر) اللہ کی راہ کا گرد و غبار اور جھنم کا دھواں اکٹھا نہیں ہو سکتے“۔اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شہید کو قتل سے اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی کہ تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے“۔اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ! کون سا عمل ہے جو جہاد فی سبیل اللہ کے مساوی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:تم اسے نہیں کر سکتے۔ لوگوں نے دو یا تین بار آپ ﷺ سے پھر یہی سوال کیا تو آپ ﷺ نے ہر دفعہ یہی فرمایا کہ تم اسے نہیں کر سکتے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال ایسے ہے جیسے وہ روزہ دار شب بیدار جو انتہائی خشوع کے ساتھ اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرتا ہے اور روزہ و نماز میں کبھی بھی کمزوری نہیں دکھاتا یہاں تک کہ وہ مجاہد واپس لوٹ آئے۔ صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض گزارش کی: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیں جو جہاد فی سبیل اللہ کے برابر ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے نزدیک تو کوئی ایسا عمل نہیں ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا:کیا تم ایسا کر سکتے ہو کہ جب مجاہد جہاد کے لیے نکلے تو تم اپنی جائے نماز پر چلے جاؤ اور پھر تم مسلسل بلا وقفہ نماز پڑھو اور مسلسل روزہ رکھو۔؟ اس نے جواب دیا: ايسا كرنے کی کس میں استطاعت ہے؟اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پرراضی ہو گیا، اس کے لئے جنت واجب ہو گئی۔ اس پر ابو سعید نے متعجب ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس بات کو دوبارہ کہیئے۔ آپ ﷺ نے اسے ان کے سامنے دوبارہ بیان کیا۔ پھر فرمایا: ایک اور (عمل) ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالی بندے کے جنت میں سو درجات بلند کرتا ہے۔ دو درجوں کے مابین اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے مابین فاصلہ ہے۔ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اوہ عمل کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ایمان کے ساتھ اور اجر و ثواب کے حصول کی نیت سے رمضان کا روزہ رکھا، اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔“متفق عليه
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جوایمان کے ساتھ اور اجر و ثواب کے حصول کی نیت سے شب قدر میں قیام کرتا ہے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے"۔متفق عليه
سالم بن عبد اللہ بن عمربن خطاب رضی اللہ عنہم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عبد الله بڑا ہی اچھا آدمی ہے۔ کاش وہ رات میں نماز بھی پڑھا کرتا“۔ سالم کہتے ہیں کہ عبد اللہ رضی اللہ عنہ اس کے بعد رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔متفق علیہ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے, وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "جو شخص جہاد فی سبیل اللہ کے دوران ایک دن کا روزہ رکھتا ہے اللہ تعالی اس کا چہرہ جہنم سے ستّر سال دور کر دیتا ہے۔"متفق عليه
سهل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "لوگ اس وقت تک بھلائی میں رہیں گے، جب تک جلد افطار کرتے رہیں گے۔"متفق عليه
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: ہم نے رسول الله ﷺ کے ساتھ سحری کی۔ پھر آپ ﷺ (صبح کی) نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ سحری اور اذان میں کتنے وقت کا وقفہ ہوتا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ پچاس آیتیں پڑھنے کے بقدر۔متفق عليه
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیوی ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: اللہ کے نبی ﷺ وفات تک رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے رہے۔ آپ کے بعد آپ کی ازواج نے بھی اعتکاف کیا۔متفق عليه
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "سحری کھایا کرو، اس لیے کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔"متفق عليه
جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے، تو آپ نے ایک جگہ لوگوں کا ہجوم دیکھا کہ ایک شخص پر لوگوں نے سایہ کر رکھا ہے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘، تو لوگوں نے کہا: روزہ دار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔‘‘، مسلم کی ایک روایت کے یہ الفاظ ہیں: ’’اللہ نے جو تمہیں رخصت دی ہے اس پر عمل کرو۔‘‘متفق عليه
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھو۔ مگر جو شخص (پہلے سے) روزے رکھ رہا ہو وہ رکھ سکتا ہے“۔متفق عليه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول ﷺ نے صدقۂ فطر مسلمان غلام اور آزاد، مرد اور عورت، چھوٹے اور بڑے (سب پر) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض قرار دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ اسے نماز عید کے لیے لوگوں کے نکلنے سے پہلے پہلے ادا کر دیا جائے۔متفق عليه
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ”کسی مسلمان عورت کے لیے جائز نہیں کہ ایک دن اور رات کا سفر بغیر کسی محرم کے کرے“۔متفق عليه
عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (کبھی ایسا ہوتا کہ) فجر ہو جاتی اور رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں کے ساتھ جماع کرنے کی وجہ سے جنبی ہوتے تھے۔ پھر آپ ﷺ غسل فرماتے اور روزہ رکھتے۔متفق علیہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جس روزہ دار نے بھول کر کھا پی لیا وہ اپنا روزہ مکمل کرے۔ کیوں کہ اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔"متفق عليه
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: مجھے میرے دوست ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تین چیزوں کی وصیت کی؛ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے، چاشت کی دو ركعت نماز پڑھنے اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی۔متفق عليه