UR
فقہ و اصولِ فقہ
فقہِ عبادات (عبادات سے متعلق شرعی مسائل)
231 احادیث
طہارت
18
نماز
126
جنازه
11
زکوۃ
13
روزہ
40
حج وعمرہ
17
جہاد
17
231 احادیث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جو شخص کسی نماز کو بھول جائے، تو وہ اسے اسی وقت پڑھ لے، جب یاد آ جائے۔ اس کے علاوہ اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔ {وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي} [سورہ طہ : 14] (اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔)
متفق عليه
ابو قتادہ سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے قبل دو رکعت ضرور پڑھے"۔
متفق عليه
ابو حُمَید یا ابو اُسَید سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو، تو یہ دعا پڑھے : "اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ" (اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔) اور جب مسجد سے نکلے تو یہ دعا پڑھے : "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ" (اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔)
رواه مسلم
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: ''بے شک آدمی اور شرک و کفر کے درمیان (فاصلہ مٹانے والا عمل) نماز کا ترک کرنا ہے''۔
رواه مسلم
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "سب سے برا چور وہ ہے، جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہو۔" کسی صحابی نے پوچھا کہ نماز میں چوری کرنے کا کیا مطلب ہے، تو آپ نے جواب دیا : "نماز میں چوری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی رکوع اور سجدہ مکمل طور پر ادا نہ کرے۔"
رواه ابن حبان
عبداللہ بن ابو اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب رکوع سے پیٹھ اٹھاتے، تو یہ دعا پڑھتے : "سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ۔" (اللہ نے اس کی سن لی، جس نے اس کی تعریف کی٭۔ اے اللہ! ہمارے رب! تیری ہی تعریف ہے آسمانوں کی وسعتوں کے برابر، زمین کی وسعتوں کے برابر اور اس کے بعد بھی تو جو چاہے، اس کی وسعتوں کے برابر۔)
رواه مسلم
عثمان بن ابوالعاص سے روایت ہے کہ وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! شیطان میرے، میری نماز اور میری تلاوت کے بیچ حائل ہو جاتا ہے اور مجھے الجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ چناں چہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "وہ ایک شیطان ہے، جسے خِِنزَب کہا جاتا ہے۔ جب تمھیں اس کے خلل انداز ہونے کا احساس ہو، تو اس سے اللہ کی پناہ مانگو اور اپنی بائیں جانب تین بار تھتکارو۔" ان کا کہنا ہے کہ میں نے آپ کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کیا، تو اللہ نے میری اس پریشانی کو دور کر دیا۔
رواه مسلم
عَن أَبي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاَةٍ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ وَهُوَ فِي الصَّلاَةِ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا، وَلاَ تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا. فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ: «لَقَدْ حَجَّرْتَ وَاسِعًا» يُرِيدُ رَحْمَةَ اللهِ.
رواه البخاري
عن أبي ذر رضي الله عنه قال: قلت يا رسول الله، أي مسجد وضع في الأرض أول؟ قال: «المسجد الحرام» قال: قلت: ثم أي؟ قال «المسجد الأقصى» قلت: كم كان بينهما؟ قال: «أربعون سنة، ثم أينما أدركتك الصلاة بعدُ فَصَلِّه، فإن الفضل فيه».
متفق عليه
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ما بين بيتي ومنبري روضة من رياض الجنة، ومنبري على حوضي».
متفق عليه
عن ابن عمر قال: بينما نحن نصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ قال رجل من القوم: الله أكبر كبيرًا، والحمد لله كثيرًا، وسبحان الله بكرةً وأصيلًا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من القائلُ كلمة كذا وكذا؟» قال رجل من القوم: أنا، يا رسول الله. قال: «عجبتُ لها، فتحت لها أبواب السماء» قال ابن عمر: «فما تركتهن منذ سمعتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ذلك».
رواه مسلم
عن ربيعة بن كعب الأسلمي قال: كنتُ أبيتُ مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتيتُه بوَضوئه وحاجته فقال لي: «سل» فقلت: أسألك مرافقتك في الجنة. قال: «أو غير ذلك؟» قلت: هو ذاك. قال: «فأعني على نفسك بكثرة السجود».
رواه مسلم
📜 ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجیے جسے میں نماز میں پڑھا کروں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ دعا پڑھا کرو ( ترجمہ ) اے اللہ!میں نے اپنی جان پر ( گناہ کر کے ) بہت زیادہ ظلم کیا پس گناہوں کو تیرے سوا کوئی دوسرا معاف کرنے والا نہیں۔ مجھے اپنے پاس سے بھر پور مغفرت عطا فرما اور مجھ پر رحم کر کہ مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا بے شک وشبہ تو ہی ہے۔ 📚 صحيح البخاري 834
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یا یوں کہا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاند ہی دیکھ کر روزے شروع کرو اور چاند ہی دیکھ کر روزہ موقوف کرو اور اگر ابر ہو جائے تو تیس دن پورے کرلو۔ بخاری ۱۹۰۹
عن ابن عمر قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أفطر قال: "ذهب الظمأُ، وابتلت العروق، وثبت الأجر إن شاء الله".
رواه أبو داود
📗ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی رمضان میں ( راتوں کو ) ایمان رکھ کر اور ثواب کے لیے عبادت کرے اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ 📚صحيح البخارى 37
عن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم حتى نقول: لا يفطر، ويفطر حتى نقول: لا يصوم، فما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم استكمل صيام شهر إلا رمضان، وما رأيته أكثر صيامًا منه في شعبان.
متفق عليه
عن نُبَيشة الهُذَلي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أيام التشريق أيام أكل وشرب».
رواه مسلم
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا :"جس نے رمضا ن کے روزے رکھے۔پھر اس کے بعد شوال کے چھروزے رکھے تو یہ (پوراسال ) مسلسل روزے رکھنے کی طرح ہے التخريج : صحيح مسلم :١١٦٣، كتاب الصوم : باب في صوم ستة أيام من شوال
عن أم المؤمنين عائشة رضي الله عنها قالت: دخل علي النبي صلى الله عليه وسلم ذات يوم فقال: «هل عندكم شيء؟» فقلنا: لا. قال: «فإني إذن صائم» ثم أتانا يومًا آخر فقلنا: يا رسول الله، أهدي لنا حيس. فقال: «أَرِينيه، فلقد أصبحت صائمًا» فأكل.
رواه مسلم
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم اپنے مرنے والوں کو ”لا الہ الا اللہ“ کی تلقین کرو۔‘‘
رواه مسلم
عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ما من ميت تصلي عليه أُمَّةٌ من المسلمين يبلغون مائة، كلهم يشفعون له، إلا شفعوا فيه».
رواه مسلم
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل بھی منقطع ہو جاتا ہے، مگر تین قسم کے عمل (کا ثواب) جاری رہتا ہے۔ صدقۂ جاریہ، یا ایسا علم جس سے اس کے بعد بھی فائدہ اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔“
رواه مسلم
📗ترجمہ : عبد اللہ ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر کو فرض قرار دیا تاکہ روزے کے لیے لغو اور بیہودہ اقوال و افعال سے پاکیزگی ہو جائے اور مسکینوں کو طعام حاصل ہو ۔ چنانچہ جس نے اسے نماز ( عید ) سے پہلے پہلے ادا کر دیا تو یہ ایسی زکوٰۃ ہے جو قبول کر لی گئی اور جس نے اسے نماز کے بعد ادا کیا تو یہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے ۔ 📚أخرجه أبو داود في "السنن"، كتاب الزكاة باب زكاة الفطر (2/ 179) رقم (1609).
پچھلا صفحہ
صفحہ 9 از 10
اگلا صفحہ