UR
فقہ و اصولِ فقہ
فقہِ عبادات (عبادات سے متعلق شرعی مسائل)
231 احادیث
طہارت
18
نماز
126
جنازه
11
زکوۃ
13
روزہ
40
حج وعمرہ
17
جہاد
17
231 احادیث
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیوی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: "جس نے ظہر سے پہلے اور ظہر کے بعد چار چار رکعتیں پڑھنے کی پابندی کی، اللہ اس پر جہنم کی آگ حرام کر دے گا"۔
رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمد
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”الله اس شخص پر رحم فرمائے جس نے عصر سے پہلے چار رکعت نماز پڑھی“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو۔ پھر فرمایا: جس کا جی چاہےمغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھے۔ یہ اس اندیشے سے فرمایا کہ لوگ اس کو سنت (لازمہ) نہ بنالیں۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب مؤذن فجر کی پہلی اذان دے کر چپ ہوجاتا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوتے اور فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں (سنت فجر) ہلکی پھلکی ادا کرتے صبح صادق روشن ہو جانے کے بعد، پھر داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے۔ یہاں تک کہ مؤذن تکبیر کہنے کی اطلاع دینے کے لیے آپﷺ کے پاس آتا۔
متفق علیہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: ایک آدمی نے نبی ﷺ سے اس وقت سوال کیا جب آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے، کہ رات کی نماز کے بارے میں آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’دو دو رکعت کر کے (پڑھو)، اور جب صبح ہونے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو، وہ تمہاری ساری نماز کو طاق کر دے گی۔‘‘ اور آپ ﷺ یہ بھی فرماتے تھے: ’’اپنی آخری نماز وتر کو بناؤ‘‘، چناں چہ نبی ﷺ نے اسی کا حکم دیا۔
متفق عليه
ابن عمر رضي الله عنہما سے روایت ہے کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”رات اور دن کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھنا ہے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں اور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل رات کی نماز (تہجد) ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”وتر حق ہے؛ جو چاہے سات پڑھ لے، جو چاہے پانچ پڑھ لے، جو چاہے تین پڑھ لے اور جو چاہے ایک پڑھ لے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ وتر فرض نمازوں کی طرح واجب نہیں ہے؛ بلکہ یہ تو رسول اللہ ﷺ کی ایک سنت ہے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
عائشہ رضی الله عنها سے روایت ہے کہ نبی ﷺ رات میں تیرہ رکعت پڑھا کرتے تھے جس میں وتر اور فجر کی دو رکعتیں بھی شامل ہوتی تھیں۔
متفق علیہ
عبد اللہ بن عَمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے عبداللہ! تم فلاں شخص کی طرح نہ ہونا، وہ رات کو قیام کرتا تھا، پھر اس نے (اکتاکر) رات کا قیام چھوڑ دیا“۔
متفق علیہ
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے قرآن والو! وتر پڑھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ وتر (طاق یعنی یکتا) ہے اور وتر کو پسند فرماتا ہے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمايا: ”صبح ہونے سے پہلے ’وتر‘ پڑھ لو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو وِتر پڑھے بغیر سوجائے، يا اسے پڑھنا بھول جائے تو جب اسے یاد آئے اس وقت اسے پڑھ لے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ”جس آدمی کو یہ ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں نہیں اٹھ سکے گا تو اسے چاہیے کہ وہ شروع رات ہی میں وِتر پڑھ لے اور جس آدمی کو اس بات کی تمنا ہو کہ رات کے آخری حصہ میں قیام کرے تو اسے چاہیے کہ وہ رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصہ کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ اس کے لیے افضل ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صلاۃ الضحیٰ (نمازِ چاشت) چار رکعت پڑھتے تھے اور جتنا اللہ چاہتا زیادہ کرتے تھے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ فرماتے ہوئے سنا: ”باجماعت نماز اکیلے شخص کی نماز سے پچیس درجے افضل ہے۔ اور فجر کی نماز میں دن اور رات کے فرشتے بھی موجود ہوتے ہیں“، پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم چا ہو تو یہ پڑھو: ﴿إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا﴾ ”بے شک فجر کا قرآن( پڑھنا، فرشتوں کے)حاضر ہونے کا باعث ہے“۔ (سورہ اسراء: 78)
متفق علیہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک نابینا شخص آیا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول! میرے پاس کوئی رہبر نہيں ہے، جو مجھے مسجد لے آئے۔ چنانچہ اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے گزارش کی کہ آپ اسے گھر میں نماز پڑھنے کی رخصت دے دیں۔ آپ نے اسے رخصت دے بھی دی۔ لیکن جب وہ جانے لگا، تو آپ نے اسے بلایا اور پوچھا : "کیا تم نماز کی اذان سنتے ہو؟" اس نے جواب دیا : جی، سنتا تو ہوں، تو آپ نے کہا : "(نماز کی ندا لگانے والے کی ندا) قبول کرو۔"
رواه مسلم
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مسجد نبوی میں چٹائی سے گھیر کر ایک حجرہ بنا لیا اور (رمضان کی) راتوں میں اس کے اندر نماز پڑھنے لگے، پھر اور لوگ بھی جمع ہو گئے، تو ایک رات نبی کریم ﷺ کی آواز نہیں آئی۔ لوگوں نے سمجھا کہ نبی کریم ﷺ سو گئے ہیں۔ اس لیے ان میں سے بعض کھنکھارنے لگے؛ تاکہ آپ باہر تشریف لائیں، پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں تم لوگوں کے کام سے واقف ہوں، یہاں تک کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں تم پر یہ نماز (تراویح) فرض نہ کر دی جائے اور اگر فرض کر دی جائے تو تم اسے قائم نہیں رکھ سکو گے۔ پس اے لوگو! اپنے گھروں میں یہ نماز پڑھو کیوںکہ فرض نماز کے سوا انسان کی سب سے افضل نماز اس کے گھر میں پڑھی جانے والی نماز ہے۔
متفق علیہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جو بے نیازی سے ہو۔ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔ اور تم میں سے ہر کسی کو چاہیے کہ وہ ان لوگوں سے صدقہ دینے کی شروعات کرے جو اس کے زیرِ پرورش ہوں،، (کہیں ایسا نہ ہو کہ) اس کی بیوی اس سے کہنے لگے تم میرے اوپر خرچ کرو اور ام ولد کہے کہ مجھے کس کے انحصار پرچھوڑ رہے ہواور اس کا غلام کہے مجھے کھلاؤ اور مجھ سے کام لو۔
اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے, وہ اپنے دادا سے روایت نقل کرتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "مسلمان دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ایک ہاتھ کی طرح ہیں، ان کا خون اور ان کا مال برابر ہے، ان کے کسی ادنی انسان کی دی ہوئی امان بھی اس لائق ہوتی ہے کہ سارے مسلمان اس کا احترام کریں اور مسلمانوں کى اور مال غنیمت ان میں کا سب سےدور شخص بھى لوٹاتا ہے"۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانۂ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“
متفق عليه
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے، سبحان الله اور الحمد لله آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے۔ قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے، ہر انسان دن کا آغاز کرتا ہے، تو (کچھ اعمال کے عوض) اپنا سودا کرتا ہے، پھر یا تو خود كو آزاد کرنے والا ہوتا ہے يا خود کو تباہ کرنے والا"۔
رواه مسلم
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے۔ پھر مجھ پر درود بھیجو، کیوں کہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں فرشتوں کے سامنے دس بار اس کی تعریف کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ مانگو، کیوں کہ وہ جنت میں ایک مقام ہے، جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کو ملے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا۔ چناں چہ جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا، اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی۔‘‘
رواه مسلم
پچھلا صفحہ
صفحہ 8 از 10
اگلا صفحہ