حدیث برائے عالم
موضوع

فقہ و اصولِ فقہ

288 احادیث

288 احادیث

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "سب سے کامل ایمان والا مؤمن وہ ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور تمھارے اندر سب سے اچھا انسان وہ ہے، جو اپنی عورتوں کے حق میں سب سے اچھا ہو۔"رواه أبو داود والترمذي وأحمد
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا : "دنیا کچھ وقت تک کے لیے لطف اندوز ہونے کا سامان ہے اور دنیا کا سب سے بہتر سامان نیک عورت ہے۔"رواه مسلم
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالی نے فرمایا: ”اے ابن آدم ! خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا“۔متفق عليه
عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه مرفوعاً: «على كل مسلم صدقة» قال: أرأيت إن لم يجد؟ قال: «يعمل بيديه فينفع نفسه ويتصدق» قال: أرأيت إن لم يستطع؟ قال: «يُعِينُ ذا الحاجة المَلْهُوفَ» قال: أرأيت إن لم يستطع، قال: «يأمر بالمعروف أو الخير». قال: أرأيت إن لم يفعل؟ قال: «يُمسك عن الشر، فإنها صدقة».متفق عليه
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ جس کی آمین ملائکہ کی آمین کے موافق ہو جاتی ہے اس کے پچھلےگناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔“متفق علیہ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس آئے، اس وقت ایک عورت ان کے پاس بیٹھی تھی۔ آپ ﷺ نے دریافت کیا: یہ کون ہے؟، انھوں نے جواب دیا: یہ فلاں عورت ہے، جو اپنی نماز کا ذکر کر رہی ہے! آپ ﷺ نے فرمایا: ٹھہر جاؤ (سن لو!) تم اتنا ہی عمل کیا کرو، جتنے کی تمھارے اندر طاقت ہے۔ اللہ کی قسم (ثواب دینے سے) اللہ نہیں اکتاتا، یہاں تک کہ تم (عمل کرنے سے) اکتا جاؤ۔ اور اللہ کو دین (کا) وہی عمل زیادہ پسند ہے، جس کا کرنے والے اسے ہمیشہ کرے۔متفق علیہ
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”عورتوں کے پاس جانے سے اجتناب کرو“۔ ایک انصاری شخص نے سوال کیا : یا رسول اللہ! شوہر کے قریبی رشتہ دار (بھائی، چچا زاد وغیرہ) کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”شوہر کا قریبی رشتہ دار تو موت ہے“۔متفق عليه
ابو ہريرہ رضي اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سوموار اور جمعرات کو (اللہ کے ہاں) اعمال پيش کیے جاتے ہيں، لہٰذا مجھے يہ پسند ہے کہ ميرا عمل (بارگاہِ الٰہی میں) پيش کیا جائے تو ميں روزے سے ہوں“۔ اور ايک دوسری روايت ميں ہےکہ: ”پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہيں، اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شريک نہيں کرتا، سوائے اس آدمی کے کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درميان کوئی عداوت ہو، چناں چہ کہا جاتا ہے کہ: ان دونوں کو مہلت دے دو يہاں تک کہ يہ آپس ميں صلح کر ليں، ان دونوں کو مہلت دے دو يہاں تک کہ يہ آپس ميں صلح کر ليں“۔ اور ايک دوسری روايت ميں ہے کہ: ”ہر سوموار اور جمعرات کو (اللہ کے ہاں بندوں کے) اعمال پيش کیے جاتے ہيں، تو اللہ ہر اس بندے کو بخش دیتا ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شريک نہيں کرتا سوائے اس آدمی کے کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درميان کوئی عداوت و دشمنی ہو، اور اللہ کہتا ہے: ان دونوں کو چھوڑ دو يہاں تک کہ يہ آپس ميں صلح کر ليں“۔اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع وسجود میں ”سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِکَةِ وَالرُّوحِ“ (نہايت ہی پاک، بڑا مقدس ہے فرشتوں اور جيريل عليہ السلام کا رب) پڑھا کرتے تھے۔اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امام اس لئے ہوتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے چنانچہ اس کی مخالفت نہ کرو۔ جب وہ تکبیر کہے تو تکبیر کہو، جب رکوع کرے تو رکوع کرو، جب ”سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہتے تو کہو: ”رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ“ اور جب سجدہ کرے تو سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔متفق علیہ
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں سحری کھانے کا فرق ہے“۔اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی انسان تھے اور آپ سب سے زیادہ سخی رمضان میں ہوا کرتے تھے، جب جبریل عليہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے۔ جبریل عليہ السلام آپ سے رمضان کی ہر رات میں ملتے تھے اور قرآن کا دور کراتے تھے۔ لہذا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خير کے کاموں میں تيز ہوا سے بھی زیادہ تیز رفتار ہوا کرتے تھے۔متفق عليه
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز (مغرب) ادا کرنے سے پہلے چند تر کھجوروں سے روزہ افطار کرتے تھے۔ اگر تر کھجوریں نہ ہوتیں، تو چند خشک کھجوروں سے اور اگر خشک کھجوریں بھی میسر نہ ہوتیں، تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ شعبان سے زیادہ اور کسی مہینے میں روزے نہیں رکھتے تھے۔ شعبان کے پورے دنوں میں آپ ﷺ روزہ سے رہتے۔ ایک اور روایت میں ہے: نبی ﷺ اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریبا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔متفق علیہ
ابو زہیر عمارہ بن رؤیبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "وہ شخص ہرگز جہنم میں داخل نہيں ہوگا، جس نے سورج نکلنے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھی۔"رواه مسلم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں اگلے سال زندہ رہا، تو (محرم کی) نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھوں گا“۔اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
اسود بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا: نبی كريم ﷺ اپنے گھر میں کیا کام کرتے تھے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ ﷺ اپنے گھر والوں کی خدمت ميں لگے رہتے تھے، اور جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے ليے تشريف لے جاتے۔اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
عثمان رضي الله عنه سے مروی ہے کہ میں نے رسو ل اللہﷺ کو بیان کرتے ہوئے سنا : ”جو مسلمان فرض نماز کا وقت پائے، پھر اچھی طرح وضو کرے، دل لگا کر نماز پڑھے اور اچھی طرح رکوع (اور سجدہ) کرے، تو یہ نماز اس کے ما قبل کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گی، جب تک کبیرہ گناہ نہ کرے اور ہمیشہ ایسا ہی ہوا کرے گا۔“رواه مسلم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "ایسے کوئی دن نہیں ہیں، جن میں نیکی کے کام کرنا اللہ کے نزدیک ان دنوں میں نیکی کے کام کرنے سے زیادہ محبوب ہو"۔ آپ کی مراد ذو الحجہ مہینہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔ صحابہ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہيں؟ آپ نے جواب دیا : "نہیں، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہیں۔ سوائے اس شخص کے جو جان اور مال کے ساتھ نکلتا ہو اور پھر ان میں سے کچھ بھی لے کر واپس نہ آتا ہو۔"رواه البخاري وأبو داود، واللفظ له
كعب بن عجرة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کے بعد کی کچھ ایسی دعائیں ہیں کہ انھیں ہر فرض نماز کے بعد پڑھنے والا یا انہیں بجا لانے والا (ثواب سے یا بلند درجوں سے) محروم نہیں ہوتا۔ (اور وہ یہ ہیں) تینتیس بار سبحان اللہ اور تینتیس بار الحمدللہ اور چونتیس بار اللہ اکبر کہنا۔“رواه مسلم
بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : "عصر کی نماز جلدی پڑھا کرو۔ کیوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی، اس کا عمل ضا‏ئع ہو گیا۔"رواه البخاري
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جو شخص اچھی طرح سے وضو کرے، اس کے گناہ اس کے جسم سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں“۔رواه مسلم
زید بن خالد الجھنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”جس نے کسی روزے دار کو افطار کرایا، اسے روزے دار کے برابر ثواب ملے گا اور روزے دار کے اجر وثواب میں سے کوئی کمی نہ ہو گی“۔اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔
سعد بن ابي وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : "جس نے مؤذن کی اذان سن کر کہا : ’’اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے‘ اس کا کوئی شریک نہیں اور بے شک محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میں راضی ہوگیا اللہ کے رب ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر۔‘‘ تو اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہيں۔"رواه مسلم