UR
تمام احادیث
کارڈز کا مکمل مجموعہ
قرآن کریم اور اس کے علوم
26
حدیث و علومِ حدیث
3
عقیدہ
135
فقہ و اصولِ فقہ
288
فضائل و آداب
288
دعوت و احتساب
15
سیرت و تاریخ
38
655 احادیث
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "بھوکے کو کھانا کھلاؤ، مریض کی عیادت کرو اور قیدی کو آزاد کراؤ"۔
رواه البخاري
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں سحری کھانے کا فرق ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
طلحہ بن عبیداللہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب چاند دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: ”اللّهمَّ أهِلَّهُ عليْنا بالأمْن والإيمان، وَالسَّلامَةِ وَالإسلامِ، ربِّي وربُّكَ اللهُ، هِلالُ رُشْدٍ وخيرٍ“ اے اللہ! اس چاند کو ہم پر، امن اور ایمان اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ طلوع فرما۔ (اے چاند!) میرا اور تیرا رب اللہ ہی ہے۔ اے اللہ! یہ ہدایت اور بھلائی کا چاند ہو۔
اسے ابنِ ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک صحابی سورہ کھف کی تلاوت کررہے تھے اور ان کے نزدیک ایک گھوڑا دو رسیوں میں بندھا ہوا تھا۔ چنانچہ انھیں ایک بادل نے ڈھانپ لیا اور ان کے نزدیک سے نزدیک تر ہونے لگا۔ ان کا گھوڑا اس کی وجہ سے بدکنے لگا۔ پھر جب صبح ہوئی، تو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ 'سكينت' تھی، جو تلاوت قرآن مجید کی وجہ سے اتری تھی۔
متفق علیہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی انسان تھے اور آپ سب سے زیادہ سخی رمضان میں ہوا کرتے تھے، جب جبریل عليہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے۔ جبریل عليہ السلام آپ سے رمضان کی ہر رات میں ملتے تھے اور قرآن کا دور کراتے تھے۔ لہذا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خير کے کاموں میں تيز ہوا سے بھی زیادہ تیز رفتار ہوا کرتے تھے۔
متفق عليه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے انسان تھے۔
متفق عليه
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز (مغرب) ادا کرنے سے پہلے چند تر کھجوروں سے روزہ افطار کرتے تھے۔ اگر تر کھجوریں نہ ہوتیں، تو چند خشک کھجوروں سے اور اگر خشک کھجوریں بھی میسر نہ ہوتیں، تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب ہم (کسی بلندی پر) چڑھتے، تو ”الله اكبر“ کہتے اور جب (کسی نشیب میں) اترتے، تو ”سبحان الله“ کہتے تھے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کا لشکر جب وادی پر چڑھتا، تو تکبیر کہتا اور جب (کسی نشیب میں) اترتا، تو تسبیح پڑھتا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ یقینا شیطان اس گھر سے دور بھاگتا ہے جہاں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے“۔
رواه مسلم
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی برابر بھی تکبر ہوگا“، ایک شخص نے دریافت کیا کہ: آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اور جوتے عمدہ ہوں۔(کیا یہ بھی تکبر کے زمرے میں آتا ہے)؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا: ”اللہ خوبصورت ہے اور وہ خوبصورتی کو پسند کرتا ہے، تکبر کا مطلب ہے: حق کو ہٹ دھرمی کے ساتھ نہ ماننا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ“ (اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ کی ہیں، اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے) کہنا میرے نزدیک ان تمام چیزوں سے بہتر ہے، جن پر سورج نکلتا ہے۔
رواه مسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ شعبان سے زیادہ اور کسی مہینے میں روزے نہیں رکھتے تھے۔ شعبان کے پورے دنوں میں آپ ﷺ روزہ سے رہتے۔ ایک اور روایت میں ہے: نبی ﷺ اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریبا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔
متفق علیہ
ابو زہیر عمارہ بن رؤیبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "وہ شخص ہرگز جہنم میں داخل نہيں ہوگا، جس نے سورج نکلنے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھی۔"
رواه مسلم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں اگلے سال زندہ رہا، تو (محرم کی) نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھوں گا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
اسود بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا: نبی كريم ﷺ اپنے گھر میں کیا کام کرتے تھے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ ﷺ اپنے گھر والوں کی خدمت ميں لگے رہتے تھے، اور جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے ليے تشريف لے جاتے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے کبھی رسول اللہ ﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم کوئی موٹا اور باریک ریشم نہیں چھوا، اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ کی خوشبو سے زیادہ عمدہ کوئی خوشبو سونگھی۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کی دس سال خدمت کی۔ آپ ﷺ نے کبھی مجھے اُف تک نہ کہا اور نہ ہی میرے کسی کیے گئے کام کے بارے میں مجھ سے یہ پوچھا کہ یہ تم نے کیوں کیا ہے؟ اور نہ ہی جس کام کو میں نے نہیں کیا اس پر آپ ﷺ نے یہ کہا کہ تم نے یہ کیوں نہیں کیا؟
متفق علیہ
عثمان رضي الله عنه سے مروی ہے کہ میں نے رسو ل اللہﷺ کو بیان کرتے ہوئے سنا : ”جو مسلمان فرض نماز کا وقت پائے، پھر اچھی طرح وضو کرے، دل لگا کر نماز پڑھے اور اچھی طرح رکوع (اور سجدہ) کرے، تو یہ نماز اس کے ما قبل کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گی، جب تک کبیرہ گناہ نہ کرے اور ہمیشہ ایسا ہی ہوا کرے گا۔“
رواه مسلم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "ایسے کوئی دن نہیں ہیں، جن میں نیکی کے کام کرنا اللہ کے نزدیک ان دنوں میں نیکی کے کام کرنے سے زیادہ محبوب ہو"۔ آپ کی مراد ذو الحجہ مہینہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔ صحابہ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہيں؟ آپ نے جواب دیا : "نہیں، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہیں۔ سوائے اس شخص کے جو جان اور مال کے ساتھ نکلتا ہو اور پھر ان میں سے کچھ بھی لے کر واپس نہ آتا ہو۔"
رواه البخاري وأبو داود، واللفظ له
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جب کوئی مسلمان صبح کے وقت اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرے، تو ستر ہزار فرشتے شام تک اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی شام کے وقت کسی مسلمان کی عیادت کرے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں، اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہو گا۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
ابو موسى اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو، سنگترے جیسی ہے، جس کی خوشبو بھی پاکیزہ ہے اور مزہ بھی پاکیزہ ہے اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہ پڑھتا ہو، کھجور جیسی ہے، جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی، لیکن مٹھاس ہوتی ہے اور منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو، ریحانہ (پھول) جیسی ہے، جس کی خوشبو تو اچھی ہوتی ہے، لیکن مزہ کڑوا ہوتا ہے اور وہ منافق جو قرآن نہیں پڑھتا، اس کی مثال اندرائن جیسی ہے، جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی اور جس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے۔"
متفق عليه
كعب بن عجرة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کے بعد کی کچھ ایسی دعائیں ہیں کہ انھیں ہر فرض نماز کے بعد پڑھنے والا یا انہیں بجا لانے والا (ثواب سے یا بلند درجوں سے) محروم نہیں ہوتا۔ (اور وہ یہ ہیں) تینتیس بار سبحان اللہ اور تینتیس بار الحمدللہ اور چونتیس بار اللہ اکبر کہنا۔“
رواه مسلم
بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : "عصر کی نماز جلدی پڑھا کرو۔ کیوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی، اس کا عمل ضائع ہو گیا۔"
رواه البخاري
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جو شخص اچھی طرح سے وضو کرے، اس کے گناہ اس کے جسم سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں“۔
رواه مسلم
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے سورہ کہف کے شروع کی دس آیتیں حفظ کر لیں، وہ دجال سے محفوظ رہے گا۔" ایک روایت ہے: "سورہ کہف کے آخر کی۔"
رواه مسلم
پچھلا صفحہ
صفحہ 16 از 28
اگلا صفحہ