حدیث برائے عالم

تمام احادیث

کارڈز کا مکمل مجموعہ

655 احادیث

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مؤذّن کو (اذان دیتے ہوئے) سنو، تو ویسے ہی کہو، جیسے وہ کہتا ہے“۔متفق عليه
مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : میں ایک سفر میں اللہ کے نبی ﷺ کے ساتھ تھا۔ میں نے آپ ﷺ کے موزے اتارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : "انہیں رہنے دو۔ میں نے ان کے اندر اپنے پاؤں طہارت کی حالت میں داخل کیے تھے"۔ پھر آپ نے موزوں پر مسح فرمایا۔متفق عليه
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی اپنے بھائی سے محبت کرتا ہو، تو اسے بتا دے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے“رواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرى وأحمد
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جوتا پہننا، کنگھی کرنا، طہارت حاصل کرنا اور اپنے سبھی کاموں کو دائيں سے کرنا پسند کرتے تھے۔متفق عليه
عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں ثنیہ بالا کے مقام کداء سے جو بطحا میں ہے، داخل ہوئے تھے اور ثنیہ زیریں کی طرف سے باہر نکلے تھے۔متفق علیہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ حجرِ اسود کے پاس آئے اور اس کا بوسہ لینے کے بعد کہنے لگے: مجھے اچھی طرح سے علم ہے کہ تو ایک پتھر ہے ۔ تو نہ کچھ نقصان دے سکتا ہے اور نہ کوئی نفع۔ اگر میں نے نبی ﷺ کو تمہارا بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تمہارا بوسہ نہ لیتا۔متفق علیہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس تھا کہ اتنے میں ایک شخص کا اس کے قریب سے گزر ہوا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں۔ اس پر نبی ﷺ نے اس سے پوچھا: کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے؟۔ اس نے جواب دیا : نہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: اسے یہ بات بتادو۔ چنانچہ اس آدمی نے اس شخص کے پیچھے جا کر اسے بتایا کہ : میں اللہ کی خاطر تم سے محبت کرتا ہوں۔ اس پر اس شخص نے کہا: تم سے بھی وہ ذات محبت کرے، جس کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنی صفیں درست کر لیا کرو۔ اس لیے کہ صفوں کی درستگی نماز کو کامل بنانے والی چیزوں میں سے ایک ہے۔"متفق عليه
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بوڑھے مسلمان کی توقیر کرنا، حامل قرآن کا احترام کرنا جب کہ وہ قرآن میں غلو کرنے والا اور اس سے رو گردانی کرنے والا نہ ہو اور عادل بادشاہ کی عزت کرنا منجملہ طور پر اللہ کی تعظیم کرنا ہے“۔اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کہتے ہوئے سنا: "جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لیتا ہے، تو شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے: یہاں نہ تمھارے لیے رات گزارنے کی جگہ ہے اور نہ رات کے کھانے کی گنجائش۔ اور جب وہ گھر میں داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہيں لیتا، تو شیطان کہتا ہے: تم نے رات گزارنے کی جگہ پا لی اور جب کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا، تو کہتا ہے : تم نے رات بتانے کی جگہ اور رات کا کھانا دونوں پا لیا۔"رواه مسلم
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے : "کبیرہ گناہ ہيں: اللہ کا شریک ٹھہرانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کا قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔"رواه البخاري
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "دنیا شیریں اورسرسبز وشاداب ہے اور اللہ اس میں تمہیں یکے بعد دیگرے بھیجنے والا ہے اور وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ لہذا دنیا سے بچو اور عورتوں سے بچو، کیونکہ بنی اسرائیل میں رونما ہونے والا پہلا فتنہ عورتوں کا ہی تھا۔"رواه مسلم
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حیا تو خیر ہی لاتی ہے“۔ ایک اور روایت میں ہے: «الحَيَاءُ خَيرٌ كُلُّهٌ» یعنی حیا سراپا خیر ہے۔ یا پھر آپﷺ نے یہ فرمایا: «الحَيَاءُ كُلُّهُ خَيرٌ» یعنی حیا سرتاپا خیر ہے۔اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ
عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے:«اللَّهُم لَكَ أسْلَمْتُ وبِكَ آمنْتُ، وعليكَ توَكَّلْتُ، وإلَيكَ أنَبْتُ، وبِكَ خاصَمْتُ. اللَّهمَّ أعُوذُ بِعِزَّتِكَ، لا إلَه إلاَّ أنْتَ أنْ تُضِلَّنِي أنْت الْحيُّ الَّذي لاَ يَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالإِنْسُ يمُوتُونَ»۔ ترجمہ: اے اللہ ! میں نے تیرے ہی سامنے سر جھکایا، تجھ ہی پر ایمان لایا، میں نے تیرے ہی اوپر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا ۔ میں نے تیری ہی مدد کے ساتھ مقابلہ کیا۔ میں تیری عزت کی پناہ مانگتا ہوں کہ تیسرے سوا کوئی دوسرا معبودِ برحق نہیں، یہ کہ تو مجھے گمراہ ہونے کے لیے چھوڑ دے، تو زندہ ہے، تجھے موت نہیں آئے گی جب کہ تمام جن و انس مر جائیں گے۔متفق علیہ
جب کوئی آدمی سفر کا ارادہ کرتا تو ابن عمر رضی الله عنہما اس سے کہتے، مجھ سے قریب ہو جاؤ تاکہ میں تمہیں ایسے رخصت کروں جس طرح نبی ﷺ ہمیں رخصت کرتے تھے چنانچہ وہ کہتے تھے: «أَسْتَوْدِعُ الله دِينَكَ، وَأَمَانَتَكَ، وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ» یعنی ”میں تیرا دین، تیری امانت اور تیری زندگی کے آخری اعمال کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں“۔ عبداللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی لشکر کو رخصت فرماتے تو کہتے «أَسْتَودِعُ الله دِينَكُم، وَأَمَانَتَكُم، وخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُم» یعنی ”میں تمہارے دین، تمہاری امانت، اور تمہاری زندگی کے آخری اعمال کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں“۔اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: میں نے اللہ کے نبی ﷺ کو کبھی اس طرح قہقہہ مار کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ میں آپ کے گلے کے کوے کو دیکھ سکوں۔ آپﷺ تو بس مسکرایا کرتے تھے۔متفق عليه
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب رات کى نیند سے بیدار ہوتے، تو اپنے منہ کو مسواک سے رگڑ کر صاف کرتے۔متفق عليه
عبد اللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: نبی ﷺ سے ایک ایسے شخص کی حالت بیان کی گئی، جسے یہ خیال گزرتا تھا کہ نماز میں اس کی ہوا نکل رہی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ (اپنی نماز سے) نہ پلٹے، جب تک آواز نہ سن لے یا اسے بو محسوس نہ کرے۔متفق علیہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ’’کوئی مسلمان مرد کسی مسلمان عورت سے متنفر نہ ہو۔ اگر اسے اس کی کوئی خصلت بری لگتی ہے تو اس کی کوئی عادت اسے پسند بھی ہو گی‘‘۔ یا پھر آپ ﷺ نے ''آخر'' کے بجائے "غیرہ" (دوسری عادت) فرمایا۔رواه مسلم
شقیق بن سلمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہر جمعرات کو ایک مرتبہ وعظ ونصیحت فرمایا کرتے تھے۔ تو ان سے ایک شخص نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! میری بڑی خواہش ہے کہ آپ ہمیں روزانہ وعظ فرمایا کریں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ مجھے روزانہ وعظ کرنے سے یہ چیز روکتی ہے کہ میں تمہیں اکتاہٹ میں ڈالنا پسند نہیں کرتا، اور میں وعظ میں تمہارا خیال رکھتا ہوں، جس طرح رسول اکرم ﷺ ہمارا خیال رکھتے تھےکہ کہیں ہم اکتا نہ جائیں۔متفق علیہ
عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹے پر شفقت نہیں کرتا اور ہمارے بڑے کے شرف وفضل کو نہیں پہچانتا“۔اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
یزید بن حیان کہتے ہیں کہ میں، حُصین بن سَبرہ اور عمرو بن مسلم، زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ جب ہم ان کے قریب بیٹھ گئے، تو حُصین نے زید رضی اللہ عنہ سے کہا: اے زید! آپ کو بڑی سعادتیں حاصل ہوئی ہیں۔ آپ نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے، آپ ﷺ سے حدیث سنی ہے، آپ ﷺ کے ہمراہ جہاد کیا ہے اور آپﷺ کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ اے زید! آپ نے بہت بڑی بھلائی پائی ہے، اے زید! آپ نے رسول اللہ ﷺ سے جو احادیث سنی ہیں، وہ ہم سے بیان کریں۔ زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! اللہ کی قسم میں بڑھاپے کو پہنچ چکا ہوں اور رسول ﷺ کی معیت کو ایک زمانہ گزر گیا ہے۔ (جس کی وجہ سے) میں بعض وہ باتیں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سن کر یاد رکھی تھیں، بھول گیا ہوں۔ اس وجہ سے جو میں تم سے بیان کروں، اسے قبول کرلو اور جو میں تم سے بیان نہ کر سکوں، مجھے اس کا مکلف نہ ٹھہراؤ۔ پھر فرمایا: رسول اللہ ﷺ ایک دن مکہ اور مدینے کے درمیان ایک چشمے کے پاس، جسے خُم کہہ کر پکارا جاتا ہے، ہمیں خطبہ ارشاد کرنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ اللہ کی حمد و ثنا بیان فرمائی اور وعظ و نصیحت کی۔ پھر فرمایا: ”بعد حمد و صلوٰۃ! آگاہ رہو اے لوگو! میں ایک آدمی ہوں، قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد میرے پاس آئے اور میں اسے قبول کرلوں۔ میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ ان میں سے پہلی اللہ کی کتاب ہے، جس میں ہدایت اور نور ہے۔ تم اللہ کی اس کتاب کو پکڑے رہو اور اس کے ساتھ مضبوطی سے قائم رہو“ چنانچہ آپﷺ نے اللہ کی کتاب کی خوب رغبت دلائی۔ پھر فرمایا: ”(دوسری چیز) میرے اہلِ بیت ہیں۔ میں تم لوگوں کو اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں۔ میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تم لوگوں کو اللہ کی یاد دلاتا ہوں“ حُصین نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: اے زید! آپ ﷺ کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ کی بیویاں اہلِ بیت میں سے نہیں ہیں؟ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کی بیویاں آپ کے اہل بیت میں سے ہی ہیں، اور وہ سب لوگ اہل بیت میں سے ہیں، جن پر آپ ﷺ کے بعد صدقہ حرام ہے۔ حُصین نے پوچھا کہ وہ کون ہیں؟ آپ نے بتایا: علی کا خاندان، عقیل کا خاندان، جعفر کا خاندان اور عباس کا خاندان۔ پوچھا: ان سب پر صدقہ وغیرہ حرام ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں!۔ اور ایک روایت میں ہے: ”آگاہ رہو! میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں؛ ان میں سے ایک اللہ کی کتاب ہے اور وہ اللہ کی رسی ہے، جو اس کی اتباع کرے گا، وہ ہدایت پر رہے گا اور جو اسے چھوڑ دے گا، وہ گمراہی پر رہے گا“۔اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "کیا تم میں سے کوئی شخص، جو امام سے پہلے اپنا سر اٹھاتا ہے، اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ اس کے سر کو گدھے کا سر بنا دے یا اس کی صورت گدھے کی صورت جیسی بنا دے؟"متفق عليه
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے قیامت کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا : قیامت کب آئے گی؟ آپ نے کہا : "تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟" اس نے کہا : تیاری تو ویسے کچھ نہيں کی ہے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت رکھتا ہوں۔ اس پر آپ نے کہا : "تمھیں اس کا ساتھ نصیب ہوگا، جس سے تمھیں محبت ہے۔" انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : ہمیں کسی چيز سے اتنی خوشی نہيں ملی، جتنا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اس قول سے ملی کہ تمھیں اس کا ساتھ نصیب ہوگا، جس سے تمھیں محبت ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے محبت رکھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس محبت کی وجہ سے مجھے ان کا ساتھ نصیب ہوگا، گرچہ میں ان کے جیسا عمل نہ بھی کر سکوں۔متفق عليه