حدیث برائے عالم

تمام احادیث

کارڈز کا مکمل مجموعہ

655 احادیث

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی تھیں۔ ایک مہینے کی مسافت تک رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور پوری زمین میرے لیے مسجد اور حصولِ پاکیزگی کا ذریعہ بنا دی گئی ہے۔ چنانچہ میری امت کا جو انسان نماز کے وقت کو (جہاں بھی) پالے، اسے وہیں نماز ادا کر لینی چاہیے۔ میرے لیے غنیمت کا مال حلال کر دیا گیا ہے، مجھ سے پہلے کسی کے لیے بھی غنیمت کا مال حلال نہ تھا۔ مجھے شفاعت عطا کی گئی۔ دیگر انبیا اپنی اپنی قوموں کے لیے مبعوث کیے جاتے تھے، لیکن مجھے تمام انسانوں کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا ہے"۔متفق عليه
انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے گھر سے نکلتے ہوئے یہ کہے: ”بِسم الله تَوَكَّلتُ على اللهِ، وَلاَ حول ولا قُوَّة إِلَّا بالله“ تو (اس وقت) اس سے کہا جاتا ہے: تجھے ہدایت دے دی گئی، تیری طرف سے کفایت کر دی گئی اور تو بچا لیا گیا اور (یہ سن کر) شیطان اس سے پرے ہٹ جاتا ہے۔ ابو داود کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں:”اس پر ایک شیطان دوسرے سے کہتا ہے :اس آدمی پر تمہارا بس کیسے چلےگا جسے ہدایت دےدی گئی، جس کی طرف سے کفایت کر دی گئی اور جسے بچا لیا گیا؟“۔اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالی فرماتا ہے: میری عظمت وجلال کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت رکھنے والوں کے لیے (روزِ قیامت) نور سے بنے منبر ہوں گے۔ ان پر انبیاء اور شہداء بھی رشک کریں گے“۔اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : "اے معاذ! اللہ کی قسم، میں تم سے محبت رکھتا ہوں"۔ آگے فرمایا : "اے معاذ! میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا ہرگز نہ چھوڑنا : اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ۔ (اے اللہ! اپنا ذکر کرنے، شکر کرنے اور بہتر انداز میں اپنی عبادت کرنے میں میری مدد فرما۔)رواه أبو داود والنسائي وأحمد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کسی کا وضو ٹوٹ جائے، تو جب تک وضو نہ کر لے، اللہ اس کی نماز قبول نہيں فرماتا۔"متفق عليه
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : آدم کی اولاد کا ہر عمل اس کے لیے ہے، سوائے روزے کے کہ وہ صرف میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ ایک ڈھال ہے۔ جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو، تو فحش گوئی نہ کرے اور نہ شور وغل کرے۔ اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ کرے يا اس سے جھگڑا کرے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے، روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں مشک کی خوش بو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ روزے دار کے لیے دو خوشی کے مواقع ہیں، جن میں وہ خوش ہوتا ہے : جب وہ روزہ افطار کرتا ہے، تو خوش ہوتا ہے اور جب اپنے رب سے ملے گا تو (اس کی جزا دیکھ کر) اپنے روزے سے خوش ہوگا"۔متفق عليه
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے، تو اسے سلام کرے۔ پھر اگر ان دونوں کے درمیان درخت ، دیوار یا پتھر حائل ہو جائے اور وہ اس سے (دوبارہ) ملے، تو پھر اسے سلام کرے۔"رواه أبو داود
ابو موسى اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”بندہ جب بیمار ہوتا ہے یا سفر کرتا ہے، تو اس کے لیے ان عبادتوں کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے، جنھیں وہ حالتِ اقامت یا صحت میں ادا کیا کرتاتھا“۔رواه البخاري
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا : "سب سے افضل ذکر "لا الہ الا اللہ" اور سب سے افضل دعا "الحمد للہ" ہے۔"رواه الترمذي والنسائي في الكبرى وابن ماجه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں ایسی چیزیں نہ بتاؤں، جن سے اللہ تعالی گناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند کر دیتا ہے؟" صحابہ نے عرض کیا : ضرور، اے اللہ کے رسولﷺ؟ آپﷺ نے فرمایا : "ناگواری کے باوجود اچھی طرح وضو کرنا، مسجد تک زیادہ قدم چلنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اور یہی رباط ( دشمنوں سے حفاظت کے لیے سرحد کی پہرہ داری کرنا ) ہے"۔رواه مسلم
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”کیا میں تمھیں ایسا عمل نہ بتاؤں جو تمھارے سارے اعمال سے بہتر، تمھارے مالک کے ہاں سب سے زیادہ پاکیزہ، تمھارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرنے والا ہے، تمھارے لیے سونا اور چاندی صدقہ کرنے سے زیادہ بہتر اور تمھارے لیے اس سے بھی زیادہ بہتر ہے کہ تمھارا مقابلہ تمھارے دشمن کے ساتھ ہو اور تم ان کی گردنیں اڑاؤ اور وہ تمھاری گردنیں اڑائیں؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : کیوں نہیں! (ایسا عمل تو ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا : ”(وہ ہے) اللہ تعالیٰ کا ذکر۔“رواه الترمذي وابن ماجه وأحمد
سلیمان بن صُرَد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں اللہ کے نبی ﷺ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور (قریب ہی) دو آدمی آپس میں گالی گلوج کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک شخص کا چہرہ (مارے غصے کے) سرخ ہو گیا تھا اور اس کی رگیں پھول گئیں تھیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر یہ شخص اسے پڑھ لے، تو اس کا غصہ دور ہو جائے"۔ فرمایا: "اگر یہ شخص کہے: ”أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرجیم“ (میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں) تو اس کا غصہ ختم ہو جائے گا"۔ چنانچہ لوگوں نے اس سے کہا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کرو، تو اس نے کہا: کیا مجھے جنون لاحق ہے؟متفق عليه
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے اور اسی طرح دوزخ بھی۔"رواه البخاري
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے“۔اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”اچھا خواب اللہ كى جانب سے ہے اور برا خواب شيطان كى جانب سے۔ چنانچہ جب تم ميں سے كوئى شخص برا خواب ديكھے، تو اپنى بائيں جانب تين بار تھو كے اور شيطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے۔ ایسا کرنے پر یہ خواب اسے كوئى ضرر نہيں دے گا۔“متفق عليه
عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالی شہید کا ہر گناہ معاف کر دیتا ہے سوائے قرض کے۔" ایک دیگر روایت میں آتا ہے کہ ’’ اللہ کے راستے میں قتل ہو جانا ہر شے کا کفارہ بن جاتا ہے سوائے قرض کے“۔اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک اپنے مابین سرزد ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے“۔رواه مسلم
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا مانگتے تھے: ”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی، اور لوگوں سے بے نیازی کا سوال کرتا ہوں“۔اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی بات زبان سے نکالتا ہے، اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اس کی وجہ سے اللہ اس کے کئی درجے بلند فرما دیتا ہے، اور ایک بندہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی والی بات کرتا ہے جس کی طرف اس کا دھیان بھی نہیں، لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم میں جا گرتا ہے“۔ اور ابو عبد الرحمن بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی بات کرتا ہے، اس کو گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ کہاں تک پہنچے گی، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے قیامت کے دن تک اپنی رضامندی لکھ دیتا ہے اور آدمی (بعض دفعہ)اللہ کی ناراضی کا ایسا کلمہ بولتا ہے، اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ کہاں تک پہنچے گا اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے اپنی ملاقات کے دن تک اپنی ناراضی لکھ دیتا ہے“۔اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ہر دو درجوں میں اس قدر فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے مابین“۔اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”رات میں ایک گھڑی ایسی ہے جو کسی مسلمان کو میسر آجائے اور وہ اس میں دنیا اور آخرت کے معاملے میں کسی بھلائی کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے اس سےضرور نوازتا ہے، اور یہ گھڑی ہر رات ہوتی ہے“۔اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اللہ کے نبی ﷺ سے اپنے قرض کا مطالبہ کرنے کے لیے آیا اور اس نے آپ ﷺ سے سختی سے مطالبہ کیا (اس گستاخی پر) صحا بہ کرام نے اس کو جھڑکا، رسول الله ﷺ نے (صحا بہ کرام سے ) فرمایا: اسے چھوڑ دو، اس لیے کہ حق دار کو کہنے کا حق حاصل ہے پھر آپ نے فرمایا، اسے اتنی عمر کا جانور دے دو جتنی عمر کا جانور اس کا تھا صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس جیسا تو ہم نہیں پاتے البتہ اس سے بہتر اور زیادہ عمر والا ہے آپ نےفرمایا: وہی اسے دے دو اس لیے کہ بہتر لوگ وہ ہیں جو اپنے قرض کی ادائیگی میں بہتر ہوں۔متفق علیہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق کام کرتا ہوں اور ميں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب بھی وہ مجھے یاد کرتا ہے۔ اگر وہ اپنے جی میں مجھے یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے جی میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ کسی مجلس میں میرا ذکر کرتا ہے تو میں ایسی مجلس میں اس کا ذکر کرتا ہوں جو اس سے بہتر ہوتی ہے۔ جو ایک بالشت میرے قریب آتا ہے میں ایک ہاتھ اُس کے قریب آتا ہوں، جو ایک ہاتھ میرے قریب آتا ہے میں دو ہاتھ اُس کے قریب آتا ہوں، اور جب وہ ميری طرف چلتا ہوا آتا ہے میں اس کی طرف دوڑتا ہوا آتا ہوں“۔متفق عليه
شریح بن ہانی سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اللہ کے نبی ﷺ جب گھر تشریف لاتے، تو کون سا عمل سب سے پہلے کرتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا: آپ ﷺ (سب سے پہلے) مسواک کیا کرتے تھے۔رواه مسلم